حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے درسِ اخلاق میں فرمایا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے صحابی زرارہ کو ہدایت فرمائی تھی کہ دورِ غیبت میں اس دعا کا اہتمام کریں: «اللهم عرفنی نفسک، فإنک إن لم تعرفنی نفسک لم أعرف رسولک... اللهم عرفنی حجتک فإنک إن لم تعرفنی حجتک ضللت عن دینی»۔
انہوں نے کہا کہ یہ دعا عام دعاؤں کی طرح صرف مغفرت یا حاجت طلب کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسان کو صحیح عقیدہ، معرفت اور حق کی پہچان عطا کرتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک توحید کو صحیح طور پر نہ سمجھا جائے، رسالت کی حقیقت واضح نہیں ہوتی، اور جب تک رسالت کی معرفت حاصل نہ ہو، امامت کا صحیح مفہوم بھی سمجھ میں نہیں آتا۔
آیت اللہ جوادی آملی نے واقعۂ غدیر اور سقیفہ کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اسلامی رہبر عوام کا منتخب نمائندہ ہے یا اللہ اور رسولؐ کا مقرر کردہ جانشین۔ اگر وہ خلیفۂ الٰہی ہے تو پہلے خدا کی معرفت، پھر رسولؐ کی شناخت اور اس کے بعد امام کی معرفت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانِ کامل کی تین بنیادی خصوصیات ہیں: وہ الٰہی علم سے بہرہ مند ہوتا ہے، اللہ کے اذن سے اپنے ارادے کے ذریعے امور انجام دیتا ہے، اور ظاہری و باطنی حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی اوصاف امام کی حقیقی شناخت کا حصہ ہیں۔
آیت اللہ جوادی آملی نے تاکید کی کہ دورِ غیبت میں اس دعا کا اہتمام انسان کو گمراہی سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے دین، رسالت اور امامت کی صحیح معرفت عطا کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ